Home > The Right Passage > ترجمہ قرآن شریف دیکھنا کیسا ہے؟؟
ترجمہ قرآن شریف دیکھنا کیسا ہے؟؟
ترجمہ قرآن شریف دیکھنا کیسا ہے؟؟

ترجمہ قرآن شریف دیکھنا کیسا ہے؟؟

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مولویوں نے دین کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ جو وہ کہے وہی دین ہے قرآن و سنت کا ترجمہ دیکھنے سے منع کرتے ہیں۔ پھر بزرگوں کی عبارت کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ یہ دیکھو مولانا اشرف علی تھانوی نے کیا لکھا ہے کہ عوام کیلئے ترجمہ قرآن شریف دیکھنا مضر ہے۔  بھلا ترجمہ دیکھنا کس کیلئے مضر ہوسکتا ہے؟ ان مولویوں نے دین کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ چنانچہ خود قرآن و حدیث پڑھو اور سمجھو۔

افسوس کہ انکو مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت تو نظر آئی مگر عبارت کے ذیل مضمون انکی نظروں سے نہیں گزرا۔ آج ان شاء اللہ اسی عبارت مختصرا کو نقل کروں گا۔

عوام کے لئے ترجمہ قرآن شریف دیکھنا مضر ہے

ایک ملا جی میرے پاس مترجم قرآن شریف لاۓ، وہ ترجمہ شاہ عبد القادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تھا جمیں محورہ کی زیادہ رعایت کی گئی ہے۔ اسمیں فاغسلوا وجوھکم و ایدیکم الی المرافق و امسحوا برؤسکم و ارجلکم  کا یوں ترجمہ کیا کیا گیا ہے کہ دھوؤ اپنے مونہوں کو اور ہاتھوں کو اور ملوں اپنے سروں کو اور اپنے پیروں کو۔ جسمیں لفظ “اپنے پیروں کو” کا تعلق حقیقت میں مونہوں اور ہاتھوں کیساتھ ہے جو کہ دور ہے نہ کہ اس فقرے کیساتھ “ملو اپنے سروں کو” جو کہ نزدیک ہے۔ مگر وہ ملا گی قریب کے سبب یہی سمجھے کہ یہ قریب سے متصل ہے تو اب وہ ترگمہ دکھلا کر مجھ سے پوچھنے لگے کہ قرآن سے تو پاؤں کا مسح ثابت ہوتا ہے ۔ میں بڑا گھبرایا کہ اس جاہل کو کیونکر سمجھاؤں نہ یہ “عطف” کو سمجھے نہ “اعراب” کو تو میں نے اس سے کہا کہ ملا جی تم نے یہ کیسے معلوم کیا کہ یہ قرآن ہے اور خدا کا کلام ہے کہا علماء کے کہنے سے! میں نے کہا اللہ اکبر! علماء اسمیں تو ایماندار ہے کہ وہ ایک عربی عبارت کو قرآن کہہ دیں اور اسمیں ایماندار نہیں کہ وہ پاوں دھونے کو فرض کہیں۔ بس! علماء نے فرمایا ہے کہ پیروں کا دھونا فرض ہے اور مسح کرنا جائز نہیں  اور نیز یہ بھی کہا کہ تم جیسوں کو قرآن کا ترجمہ دیکھنا جائز نہیں۔ خبردار! جو تم نے کبھی آئندہ ترجمہ دیکھا ، بس قرآن کی تلاوت کیا کرو، ترجمہ ہرگز نہ دیکھو!۔

ایک بڑے میاں کا واقعہ

اس سے بھی بڑھ کر ہمیں ایک بڑے میاں ملے جو بڑے تہجد گزار تھے وہ مجھ سے کہنے لگے کہ جب میں قرآن پڑھا کروں تو لفظ “راعنا” چھوڑ دیا کروں کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
یایھا الذین امنو لا تقولوا راعنا
اے ایمان والو! “راعنا” مت کہا کرو

تو کیا تلاوت کیوقت بھی “راعنا” کو نہ پڑھا کروں۔ میں نے ان سے کہا کہ “راعنا” کو تو مت چھوڑو مگر آج سے قرآن کا ترجمہ دیکھنا چھوڑ دو کیونکہ تم کو سمجھنے کی قابلیت نہیں۔

 ایسے ہی لوگوں نے شریعت کا ناس کیا ہوا ہے جو قرآن و حدیث کا ترجمہ دیکھ کر مجتہد بن گئے ہیں اب اگر انکی کم لیاقتی کے سبب انکے شبہات کا جواب نہ دیا جائے بلکہ ان لوگوں کو ترجمہ دیکھنے سے منع کیا جاۓ تو بعض لوگ یوں کہتے ہیں کہ علماء کو ہمارے سوالات کا جواب نہیں آتا۔

حقیقت یہ ہیکہ انکو اپنی کم عقلی کی خبر نہیں کہ اسمیں جواب کے سمجھنے کی اہلیت نہیں، بھلا ایک جاہل کسی کالج کے پروفیسر سے کہے کہ مجھے اقلیدس سے پہلے مقالے کی پانچویں شکل سمجھا دو اور وہ اسکی تقریر کرے اور جاہل نہ سمجھ سکے اور کہے نہ معلوم یہ کیا بلتا ہے تو بتلائے قصور کس کا ہے۔ یقینا جاہل کی عقل کا قصور ہے۔ مگر جاہلوں کے نزدیک تو وہ پروفیسر ہی بکتا ہے۔

بس ایسے شخصوں کو جواب یہی ہے کہ تم کو جس طریقے سے قرآن کا قرآن ہونا معلوم ہوا اسی طریقے سے اسکے احکام بھی معلوم کرو، تم کو خود معانی سمجھنے کا حق نہیں، یہ تفصیل میں نے اسلئے کی تاکہ آپ ترجمہ قرآن دیکھ کر اپنے آپ کو ماہر نہ سمجھیں، جو لوگوں میں بڑا مرض ہیں۔

تتمہ

یہ اصل عبارت تھی کہ جسکی وجہ سے عام عوام کو ترجمہ دیکھنے سے منع کیا جاتا ہے۔ لیکن ترجمہ قرآن اگر نصیحت حاصل کرنے کیلئے پڑھے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن افسوس ایسے لوگ بہت کم ہیں، بہت سے لوگ ترجمہ دیکھ کر مگتہد اور پھر لوگوں کو مسئلہ بھی بتانا شروع کردیتے ہیں۔
البتہ اگر کوئی واقع ترجمہ دیکھنے کا شوق رکھتا ہو تو شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا آسان ترجمہ اس زمانے کے لوگوں کیلئے بہترین تحفہ ہے۔

About trp

Check Also

trump and korea

What it actually takes to launch a nuclear strike

Washington (CNN)-President Donald Trump warned North Korean leader Kim Jong Un on Tuesday that he …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *