Home > The Right Passage > اگر تمام علماء متفق ہو جاۓ
علماء
علماء

اگر تمام علماء متفق ہو جاۓ

نو تعلیم یافتہ طبقہ یہ اعتراض کرتا ہے کہ اگر تمام علماء متفق ہو جاۓ تو سارا باہمی نزاع دور ہو جاۓ۔ واقعی یہ ایک قیمتی راۓ ہے مگر اس میں ایک دھوکہ ان صاحبوں کو ہو رہا ہے جسکو میں بیان کرنا چاہتا ہوں مگر اول اسکی ایک نظیر پیش کرتا ہوں کیونکہ آگ کل اسکے بغیر لوگ کچھ نہیں سمجھتے۔

پہلی نظیر

اسوقت سب کو یہ بات مسلم ہے کہ اہل یورپ آج کل سب سے زیادہ متمدن ہیں بالخصوص انگریز دنیاوی امور میں ان کی عقل و فہم سب سے زیادہ حجت سمجھی جاتی ہے۔ انکا ایک قانون ہے کہ جب کوئی عدالت میں جاکر دعوی کرے تو حاکم کو اسکی تحقیق کرنی چاہئیے شہادت اور ثبوت طلب کرے اور وکلاء طرفین میں گفتگو ہو اور اخیر تک حاکم سب کی گفتگو سنتا رہے  پھر اپنی راۓ کے موافق کسی ایک کو ترجیح دے کر ڈگری دیتا ہے اور اس درمیان میں ظاہر ہے کہ ایک ایک وکیل اپنے مؤکل کو غالب کرنے کی کوشش کرتا ہے اور طرفین میں اچھی طرح مباحثہ قائم ہوتا ہے۔

اب میں پوچھتا ہوں کہ کوئی تعلیم یافتہ اس طریقہ میں حاکم کو ظالم کہے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ ہر ایک شکص اسکو عدل کے موافق سمجھتا ہے، پس اگر نااتفاقی بری چیز ہے تو ان وکلاء طرفین کو کیوں نہیں ملامت کی جاتی اور سب سے زیادہ اس حاکم کو ملامت کرنی چاہئیے جس نے اپنی عدالت میں نزاع اور بحث قائم ہونے دی۔ اور اسی پر اپنے فیصلے کی بنیاد ڈالی مگر جب اس منازعت کو قابل ملامت نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسکو عین عدل کہا جاتا ہے تو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ منازعت اور نااتفاقی مطلقا بری نہیں بلکہ طریقہ یہ ہیکہ اول معاملے کی تحقیق کی جاتی اور اس سے پہلے دونوں میں سے کسی کو ملامت نہیں کی جاسکتی اور تحقیق کے بعد جو حق معلوم ہو اسکا ساتھ دو اور جو ناحق پر ہو اسکو ملامت کرو یہ کیا کہ دونوں کو ملامت کیجاتی ہے اور دونوں کو اس اختلاف چھوڑے اور اتفاق کرلینے کی ترغیب دی جاتی ہے ہر معاملے میں ایسا اتفاق ممکن نہیں ہوا کرتا۔ اگر حاکم بھی ایسا ہی کرے کہ دونوں فریق کو ملامت کرنے لگے تو کیسے ہو؟ مگر دنیاوی معاملات میں یہ نو تعلیم یافتہ بھی اس قاعدہ پر عمل نہیں کرتے  اور ہمیشہ ایک فریق کا (جو حق پر معلوم ہو) ساتھ دیا کرتے ہیں۔ پھر دین کے بارے میں یہ قاعدہ کیوں نہیں برتا جاتا اس سی ایک راز معلوم ہوا کہ ان لوگوں کہ دلوں میںدین کی وقعت اور عظمت کوئی چیز نہیں اس لئے اسکی کچھ فکر بھی نہیں۔

دوسری نظیر

اس طرقے پر دنیاوی امور میں بھی عمل نہیں ہوسکتا۔ مثلا ایک شخص نے مجلس میں ایک بات نکالی تو اسمیں بھی دو چار اختلاف کرنے والے ہوجائیں گے اب اگر دونوں فریق کو ملامت کی جاۓ اور ترغیب دی جاۓ تو سو قیامتیں آجائیں گی مگر اتفاق ناممکن ہوگا پس آپکا طریقہ تو ایسا ناتمام ہے کہ نہ دین میں کارآمد ہے اور نہ دنیا میں۔

اس زمانے میں لوگوں کو یہ دھوکہ ہوا ہے کہ وہ اتفاق کو محمود اور اختلاف کو مذموم سمجھتے ہیں اور علماء کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپس میں اتفاق کرلو۔ بس انکی اتنی بات تو قابل تسلیم ہے کہ نزاع و اختلاف واقعی بری چیز ہے اسکے زائل کرنے کا جو طریقہ بتلایا جاتا ہے  کہ دونوں کو ملامت کر کے اتفاق کی دونوں کو ترغیب کی جاتی ہے، یہ بلکل سرسر عقل اور فطرت کے خلاف ہے، کیونکہ اسکے معنی تو یہ ہوۓ کہ صاحب باطل کچھ صاحب حق کی اتباع کرے، اور صاحب حق کچھ صاحب باطل کی اتباع کرے۔

پہلے ایک فریق جو خالص حق پر تھا اب وہ بھی باطل کا پیروکار ہوجاۓ۔ اسکو فطرت انسانیہ کبھی تسلیم نہیں کرسکتی۔

 

About trp

Check Also

2018 First Meme [Me kts (Kattar Sunni Hoo) Meme]

Me kts (Kattar Sunni Hoo) Meme 2018 First Meme Watch On Youtube: https://youtu.be/Q_TzJMnOA2Y   Subscribe …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *